Zameen Kha Gayi Assmaan Kaise, Kaise: Urdu version

URDU VERSION 

– AUDIO: https://soundcloud.com/dawn-audio/zameen-kha-gayi-aasmaan-kaise

یہ آسمان جو زمین پر اترتے ہیں انہیں بالآخر زمین کھا ہی جاتی ہے۔ زمین کے نام پر صدیوں سے جنگیں بھی ہوئیں تو بٹوارے بھی ہوئے۔

زمین کی چھاتی پر سرحد کےنام پر لکیریں کھینچی گئیں، قتل ہوئے اورخون بہا۔ کبھی مذہب، قومیت، علاقے، نظریے اور فکر کی بنیاد پر تو کبھی زبان، ثقافت، رنگ اور نسل کو بہانہ بناکر انسانیت کو زندہ درگور کرنے کا عمل بھی صدیوں سے ہی جاری ہے۔ جوں جوں انسان اپنی آبادی میں اضافہ کیے جارہاہے، توں توں زمین اس کے لیے تنگ پڑتی جارہی ہے۔

اب زمین بھی آسمان کی طرف سفر کرنے لگی ہے۔ پہلے آسمان زمیں پر اترتا تھا۔ اب زمین آسمان کو چھونے لگی ہے۔ انسان کی بھوک تو کبھی مٹنے کی ہے ہی نہیں۔ لیکن جو زمین ہتھیانے اور بیچ کھانے کی بھوک اسے نصیب ہوئی ہے۔ اس نے اسے انسان سے عفریت بنا دیا ہے۔

پہلے زمین اللہ کی تھی، اب تو وہ اس کی بھی نہیں رہی۔ اب زمین کا مالک نیچے رہتا ہے اور  اللہ چپ چاپ اپنے بندوں کو تکتا رہتا ہے جو اب اس کی زمین کے مالک بھی بن بیٹھے ہیں۔ یہ اللہ کے پراسرار بندے جب سے زمین کے مالک بنے ہیں اور اسے کاروبار بھی بنادیا ہے۔ تب سے زمین بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے۔

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.

السٹریشن — خدا بخش ابڑو –.

پہلے تو انگریز کسی دیسی کی خدمات اور وفاداری سے متاثر ہوتے تو زمین جو ان کی اپنی بھی نہیں ہوتی، اسے لقب القاب کے ساتھ اپنے وفاداروں کے نام کردیتے۔ پھر یہ ہوا کہ زمین غازیوں، شہیدوں اور جنگ ہارنے والوں کے نام ہونے لگی۔ اور پھر زمین بٹتی ہی چلی گئی۔ جس جس کا بس چلا، جس جس کے اختیار میں تھا۔ اس نے زمینیں بانٹیں، ہتھیائیں اور قبضہ بھی کیا۔ کبھی کسی نے اگرغلطی سے چھکا ماردیا اور ملک کو میچ جتوا دیا تو وہ بھی زمیندار ٹھہرا۔ کسی نے اگر ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا کام سرانجام دیا تو اسےبھی زمیندار بننے کا اعزاز ملا۔

پہلے تو زمیندار گاؤں گوٹھوں میں ہوا کرتے تھے، پھر شہروں میں بھی جنم لینے لگے۔ فیوڈلزم کے خلاف نعرے لگانے اور جدوجہد کرنے والے جو وڈیرہ شاہی کے خاتمے کی خاطر میدان میں اترے تھے۔ وہ خود شہری وڈیرے بن بیٹھے۔

اگر کوئی شہر میں بستا ہے تو شہری وڈیرے سے بنا کر رکھنی ہے اور اگر گاؤں گوٹھ میں رہتا ہے تو اسے وہاں کے وڈیرے کو مائی باپ ماننا پڑتاہے۔ گاؤں میں کسی مسئلے کا شکار ہوجائیں تو سیدھا ڈیرے جانا پڑتا ہے اور اگرشہر میں ہیں تو شہری ڈیرے کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

اب تو ویسے بھی آدھے سے زیادہ شہر کینٹ ایریاز بنے ہوئے ہیں۔ باقی کو صاحب لوگ ڈفینس کہتے ہیں اور جو بچا کھچا شہر ہے وہ درمیان میں کہیں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جہاں تک آپ کی نگاہ پہنچے گی وہاں آبادیاں ہی آبادیاں ہیں۔

ویسے آبادیاں ہیں کے بڑھتی ہی جارہی ہیں اور زمین ہے کے گھٹتی جارہی ہے۔ جو کاروبار ڈفینس کے نام پر شروع ہوا تھا۔ اس نے ایسی ترقی کی کہ سیاستدانوں، بیوروکریسی، دین کے ٹھیکیداروں سے ہوتا ہوا اب منصفین تک پہنچ گیا ہے۔ سب کو زمین چاہیئے، شہروں میں بھی توآبادیوں میں بھی۔

جماعتیں سیاسی ہوں کہ مذہبی، قوم پرست ہوں یا ترقی پسند، جو بھی نعرے لے کر آئیں۔ جس بھی نظریے کا پرچار کر رہی ہوں۔ جیسے بھی ان کے منشور ہوں۔ سب ہی اس کاروبار کا حصہ ہیں۔ سب کی نظر زمین پر ہی رہتی ہے۔ چاہے اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر۔ باہر ہیں تو قبضے کرتے ہیں اور اندر ہیں تو بانٹتے یا بیچتے پھرتے ہیں۔

اپنا بدنصیب شہر کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا، امن و آشتی کا گہوارہ بھی تھا تو اپنی سیکیولر شناخت کے لیے بھی جانا جاتا تھا۔ جو کبھی بھی مذہب، قومیت، فرقے یا مسلک کی بنیاد پر بٹا بھی نہیں تھا۔ جس میں سب کو بلا کسی مذہبی اور قومیتی تفریق کے سانس لینے اور جینے کا حق تھا۔ اس کی ایک بہادربیٹی پروین رحمان جس نے اپنی پوری جوانی اس کے غریب باسیوں کی خدمت اور اس کی تعمیر میں نچھاور کردی۔ جس کا اوڑھنا بچھونا صرف غریبوں کی خدمت تھا۔ اسی روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں بدلنے والے بیٹوں کے ہاتھوں پچھلے دنوں قتل کردی گئی۔ وہ بیٹے جن کے ہاتھوں میں کبھی کتاب ہوتی تھی اور اب صرف ہتھیار ہی رہ گئے ہیں۔

چونکہ پروین کا شمار نا قاتلوں میں ہوتا تھا نا ہی کسی فرقے، لٹیروں یا قبضہ گیروں کے گروہ سے۔ اس لیے اس کی موت سے نا ہی شہر کے رکھوالوں کو کوئی فرق پڑا، نا کوئی کاروبار رکا اور نا ہی کہیں پہیہ جام ہوا۔

جیسے روز کراچی کے غریب مرتے ہیں ایسی ہی ایک سرخی اخباروں کی زینت بنی کہ کراچی میں اتنے ہلاک اس میں پروین رحمان بھی شامل تھی۔ اس ظالم شہر میں غریبوں کی خدمت کرنے والے بھی غریبوں کی طرح ہی ماردیے جاتے ہیں۔

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو --.

السٹریشن — خدا بخش ابڑو –.

اورنگی پائلٹ پروجیکٹ جو پروین کی پہچان تھا۔جہاں وہ 1980 سے خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اختر حمید خان اور عارف حسن جیسے لوگوں کے ساتھ کام کرتے کرتے وہ بھی ان ہی کی طرح اپنے لوگوں کی ہوکر رہ گئی تھی۔ شہرت اور دولت سے زیادہ اسے خدمت میں سکون ملتا تھا۔

پیسہ دھن دولت تو اس شہر میں بہت ہے لیکن پروین نے بجائے دھن سمیٹنے کے، صرف غریبوں کی محبتیں سمیٹیں۔ پروین کو خاموشی سے کام کرنے کی عادت تھی اور شہرت کا بھی کوئی شوق نہیں تھا۔ وہ چپ چاپ جو کام کرگئی ہے وہ ہمارے تصور سے بھی زیادہ ہے۔

پچھلے تین چار سال سے وہ کراچی کے پرانے گوٹھوں کو بچانے میں لگی تھی اور ان پر اس نے نا صرف اپنی تحقیق بلکہ اس کی ایک ایک تفصیل بمع نقشوں کے بھی چھوڑے ہیں۔

ایک طرف کراچی کے اصلی گاؤں گوٹھوں کو یہ کھانے کھپانے والے ہڑپ کرنے پر تلے تھے تو دوسری جانب وہ ایک نہتی لڑکی دن رات موت کی دھمکیوں کے باوجود بھی ڈٹی رہی اور جو حق اور سچ کا سبق اپنے استادوں سے سیکھا تھا اس پر مرتے دم تک قائم رہی۔

اس کی مسکراہٹ ہمیشہ اس کی پہچان رہی اور ہم دوست بھی ہمیشہ سے اسے اس کی مسکراہٹ سے ہی یاد رکھتے تھے۔ بقول ہمارے دوست کرامت علی کے جب مارنے والے نے اس پر گولی چلائی ہوگی تو اس نے مسکراکر اس کو بھی یہی کہا ہوگا کہ تم تو صرف یہی کرسکتے ہو۔

پچھلے دنوں اس کی بڑی بہن اور ہماری دوست عقیلہ اسمٰعیل کے انگریزی میں لکھے گئے ناول “آف مارٹرز اینڈ میریگولڈز” کی رونمائی کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ہوئی۔ جس کی کہانی اکہتر میں مشرقی پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات پر مبنی ہے۔

عقیلہ اس وقت ڈھاکہ یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ تھی جب یہ حالات رونما ہوئے اور اس ساری صورتحال میں عقیلہ اپنے بنگالی دوستوں کا ہی ساتھ دیتی ہے۔ اس ناول میں جس طرح اس وقت کے حالات کو سچائی سے بیان کیا گیا ہے اس پر اسی تقریب میں ایک سابق میجر کھڑے ہوکر چیخنے چلانے لگے کے یہ سب جھوٹ بیان کیا گیا ہے اور غلط تصویر پیش کی جارہی ہے سچ صرف وہ ہے جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں ان سب حالات کا چشم دید گواہ بھی ہوں۔

پروین اسی عقیلہ کی چھوٹی بہن تھی۔ جس اورنگی پائلٹ پروجیکٹ میں اس نےکام کیا وہ مشرقی پاکستان سے آئے لوگوں کی آبادکاری کے لیے بنا تھا۔ ان کا کیا ہوا کام باقی دنیا کے لیے ایک مثال بن گیا ہے اور اب باقی دنیا میں بھی اسی کو فالو کیا جارہا ہے۔

ایک طرف تو ہمارے سندھی دوستوں کا نعرہ ہے “بہاری نہ کھپن”! دوسرے وہ ہیں جنہوں نے بہاریوں کے نام پر صرف ملکیتیں بنائیں اور ایک وہ لڑکی ہے جو بہاری ہوتے ہوئے بھی کراچی کے اصلی گاؤں گوٹھوں کو بچانے کی خاطر اپنی جان بھی دیدیتی ہے۔

سلام ہے اس خاندان کی بیٹیوں پر جو جہاں بھی رہیں سچ اور حق کے ساتھ رہیں۔ سینتالیس میں انکے خاندان کو ہندوستان چھوڑنا پڑا اور اکہتر میں بنگلہ دیش اور اب پروین کو تو زمین کا کاروبار کرنے والوں نے اپنے راستے سے ہٹا ہی دیا ہے۔

اس کی ماں جو ڈھاکہ چھوڑتے وقت اپنی قوت گویائی بھی کھو چکی تھی اور اب بھی اس بات سے بے خبر ہے کہ پروین اب نہیں رہی۔ چند دنوں میں وہ اب اپنی بڑی بیٹی کے ساتھ اس زمین کو چھوڑ کر کسی اور زمین کی جانب کوچ کرنے والی ہے۔


وژیول آرٹس میں مہارت رکھنے والے خدا بخش ابڑو بنیادی طور پر ایک سماجی کارکن ہیں۔ ان کے دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق سے لیکر آمرانہ حکومتوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ڈان میں بطور الیسٹریٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s